کاروار 9 / نومبر (ایس او نیوز) اتر کنڑا انچارج وزیر کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں کاروار میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کے ڈاکٹروں نے وہاں چل رہی بدنظمی کا پٹارا کھول کر رکھ دیا اور کریمس (کاروارانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس) کے ڈائرکٹر ڈاکٹر گجانن نائک کے خلاف شکایتوں کا ابنار لگا دیا ۔
میڈیکل کالج کے بعض سینئر پروفیسرز اور ڈاکٹروں نے میڈیکل کالج کے ڈائریکٹر اور ایڈمنسٹریٹیو آفیسر کی جانب سے ہو رہی ہراسانی اور بدنظمی کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کو بیٹھنے کے لئے کرسیاں اور آرام کرنے کے لئے ریسٹ روم دستیاب نہیں ہے ۔ اہم دستاویزات کی پرنٹ لینے کے لئے پرنٹر کی سہولت نہیں ہے ۔ کچھ ڈاکٹرس مہینے کے آخر میں یہاں پہنچ کر دستخط کرکے اپنی تنخواہ وصول کرکے چلے جاتے ہیں ۔ اسپتال کے انتظام و انصرام کے سلسلے میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ جونیئرس کے سامنے سینئرس کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔ سینئرس کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی راہ میں ہراساں کیا جا رہا ہے ۔
میٹنگ میں حاضر ڈپٹی کمشنر گنگو بائی مانکر نے ڈاکٹروں اور پروفیسروں کی طرف سے ڈائریکٹر ڈاکٹر گجانن نائک کے خلاف خلاف لگائے گئے الزامات اور شکایتوں کی فہرست تیار کی تو ڈاکٹر گجانن نائک کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ انہوں نے بالکل چپکی سادھ لی ۔
ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا نے ڈاکٹر گجانن نائک کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آپ اس عہدے پر کیسے پہنچے اور کس لئے پہنچے یہ مجھے معلوم نہیں ہے لیکن آپ اپنی من مانی چلا رہے ہیں ۔ یہ رویہ زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے ۔ بھگوان سے ملنے والی سزا سے بچ نہیں سکتے ۔ ایس سی ایس ٹی طلبہ کو اگر ہراساں کروگے تو پھر جیل جانا پڑے گا ۔ اسپتال کے تعلق سے بے پروائی اور غفلت کسی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی ۔
منکال وئیدیا نے اسپتال میں جن سہولتوں کی کمی ہے اس کے تعلق سے تفصیلات حاصل کیں ۔ ایم آر آئی اسکیانر کے تعلق سے انہوں نے بتایا کہ اس کے لئے کابینہ میں منظوری مل گئی ہے ۔ جلد ہی اسکیانر فراہم کیا جائے گا ۔ وئیدیا نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں نئی حکومت بن کر چار مہینے کا عرصہ گزر گیا مگر یہاں کے ڈاکٹروں نے اسپتال کی ضرورتیں پورا کرنے کے لئے ایک تجویز اب تک نہیں بھیجی ۔
میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر منکال وئیدیا نے کہا کہ کاروار انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (کریمس) میں جو بدنظمی چل رہی ہے اسے جلد ہی درست کیا جائے گا ۔ اس موقع پر ڈی سی گنگو بائی مانکر، ڈی یو ڈی سی آفیسر اسٹیلا ورگیس موجود تھے ۔